زندگی پر نثارہیں ہم لوگ از رخسار ناظم آبادی

زندگی پر نثارہیں ہم لوگ
ہر مصیبت گزار ہیں ہم لوگ
موت آکر ہمیں چھڑاتی ہے
زندگی کے شکار ہیں ہم لوگ
صدیوں پہلے پڑے ہوئے تھے جہاں
اس جگہ برقرار ہیں ہم لوگ

کیٹاگری میں : Poetry

اپنا تبصرہ بھیجیں