عالیجناب محمد حامد انصاری ،نایب صدر جمہوریہ ہند کے بدست’’ آنند نرائن ملاحیات و کمالات‘‘ کی باوقار رونمائی

نئی دہلی (پریس رلیز) گرین پیجز پبلشنگ کمپنی اور مجلس فخر بحرین برائے فروغ اردو کے زیر اہتمام آصف اعظمی اور عزیز نبیل کی تحقیق و تدوین پر مشتمل کتاب ’’ آنند نرائن ملا حیات و کمالات ‘‘ کی باوقار رونمائی بدست عالیجناب محمد حامد انصاری ، نایب صدر جمہوریہ ہندان کی رہائش گاہ پرعمل میں آئی۔مسند صدارت پر معروف وکیل و ممبر پارلیامنٹ جناب مجید میمن جلوہ افروز تھے۔ مجلس فخر بحرین برائے فروغ اردو کے بانی و سرپرست جناب شکیل احمد صبرحدی نے خصوصی طور پر بحرین سے تشریف لاکر اس باوقار محفل کے وقار میں مزید اضافہ کیا۔اسٹیج پر موجود جناب آنند نرائن ملا کی صاحبزادی بھی حاضرین کی توجہ کا مرکز تھیں۔جناب آصف اعظمی نے اپنے تعارفی کلمات میں پنڈت آنند نرائن ملا کے حالات اور ان کے تخلیقی کارناموں پر روشنی ڈالی اور فرمایا کہ موصوف نہ صرف ایک معروف وکیل،فاضل جج اور بعد ازآن ایک ممتاز ممبر پارلیامنٹ تھے بلکہ اردو کے عظیم شاعراور ہماری مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کے محافظ و علمبردار تھے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ان کے نام نامی کا آغاز پنڈت اور اختتام مُلا پر ہوتا ہے۔اس سے بڑی باہمی رواداری کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔نایب صدر جمہوریہ ہند عالیجناب محمد حامد انصاری نے کتاب کی رونمائی کرتے ہوئے آنند نرائن ملا کی ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور آصف اعظمی اور عزیز نبیل کی اس مشترکہ کاوش کو ایک تاریخ ساز کارنامے سے تعبیر کیا۔انھوں نے فرمایا کہ عہد حاضر میں اردو ایک زندہ اور عالمگیر زبان ہے۔انٹرنٹ اور جدید وسایل ترسیل و ابلاغ کے وسیلے سے آج ہر جگہ اردو کی بستیاں آباد نظر آتی ہیں۔ صدر محفل عالیجناب مجید میمن نے فرمایا کہ اردو ہماری مشترکہ گنگا جمنی تہذیب اور جمہوری قدروں کی آئینہ دار ہے اور آنند نرائن ملا کی ذات گرامی اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے جنھوں نے نہ صرف اپنے خون جگر سے گلشن اردو کی آبیاری کی بلکہ اپنے اعمال و افکار سے آج بھی زبانزد خاص و عام ہیں۔تقریب کے دوران پنڈت آنند نرائن ملا کی دو نظمیں پڑھ کر سنائیں گئیں جنھیں سامعین نے بیحد پسند کیا۔ مجلس فخر بحرین برائے فروغ اردوکی روح رواں اور مہمانِ ذی وقار شکیل احمد صبرحدی کے اظہار امتنان و تشکر کے ساتھ یہ باوقار محفل جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اساتذہ ، طلبا ،صحافی ، شعرا اور ارباب فکر و نظرموجود تھے ، اختتام پذیر ہوئی۔

آصف اعظمی اور عزیز نبیل کی تحقیق و تدوین پر مشتمل کتاب ’’ آنند نرائن ملا حیات و کمالات کی تقریب رونمائی پر منظوم تاثرات

احمد علی برقیؔ اعظمی
رونمائی : بدستِ عالیجناب محمد حامد انصاری ، نایب صدر جمہوریہ ہند
بتاریخ : ۲۹ اپریل ۲۰۱۶

آنند نرائن ملا کی خدمات ہیں سب کے وردِ زباں
اپنی مشترکہ قدروں کی تھے ہند میں وہ عظمت کے نشاں

جو کام ہند میں ہونا تھا بحرین نے وہ انجام دیا
تدوین نبیلؔ و آصفؔ کی اربابِ بصیرت پر ہے عیاں

گنگا جمنی تہذیب کاہیں مُلا کی غزلیں آئینہ
ہے آج ضرورت وقت کی یہ ہو اس سے واقف نسلِ جواں

ہے آج حال جو اردو کا ارباب نظر پر ہے روشن
اب بھی نہ ہوا تو پھر آخر ،کب ہوگا ہمیں احساسِ زیاں

اردو کے محافظ تھے پہلے ہندو، مسلم ، سکھ، عیسائی
جمہوری قدروں کی مظہر ہے اگر کوئی تو یہی زباں

اردو ہے زبانِ دل برقی ؔ اور صنفِ غزل ہے جان اس کی
بے وجہہ نہیں ہیں شیدائی اس صنفِ سخن کے اہلِ جہاں

0Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں