مجلس کا تعارف

منتشر خوابوں کی یوں صورتِ یکجائی ہوئی
آپ آئے ہیں تو پھر انجمن آرائی ہوئی
مجلس فخرِ بحرین کی جانب سے مسلسل چھٹے سال اردو شاعری کی انجمن آرائی کرتے ہوئے ہم بے انتہا خوشی محسوس کررہے ہیں۔ اب سے چھ برس قبل ۲۰۱۲ء میں ہم نے مجلس کی بنیاد اس یقین اور اعتماد کے ساتھ رکھی کہ بحرین میں اردو کے لیے کچھ مختلف، الگ اور بہتر کام کیا جائے۔ چنانچہ ہم نے منصوبے بنائے، لائحہء عمل تیار کیا، منصوبوں کو نافذ کیا اور بنائے گئے خاکوں میں رنگ بھرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل بہتری کی سمت گامزن ہیں۔ آج مجلس کی سرگرمیوں کا دائرہ بحرین کی سرحد سے دو ر ہندوستان کے مختلف شہروں تک پھیل چکا ہے، مجلس کے کاموں کے لیے اہلِ علم وفن کی جانب سے ملنے والی پذیرائی ہمارے لیے سند بھی ہے اور اعزاز بھی۔
مجلس فخرِ بحرین برائے فروغِ اردو نے اپنی مسلسل کارکردگی کے ذریعہ محض ایک ادبی تنظیم تک محدود نہ رہ کر ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی ہے، جس کا مقصد اردو زبان و ادب کے فروغ کا ایک ایسا منظرنامہ تیار کرنا ہے جس میں اتحاد، یگانگت، محبت، امن و آشتی اور تہذیبی ہم آہنگی کے مختلف رنگوں کی جلوہ سامانیاں ہوں اور عزم و استقلام، امید، استقامت، ہمت و حوصلہ اور جہدِ مسلسل کی روشنیاں شامل ہوں۔ مجلس ہمہ وقت اردو کے فروغ کے لیے اپنی کوششوں کا دائرہ وسیع تر اور بامقصد ترین بنانے میں کوشاں ہے۔
مجلس کی سرگرمیوں میں مندرجہ ذیل باقاعدہ کام شامل ہیں
٭ بحرین کی سرزمین پر ہر سال اردو کے کسی اہم شاعر کے نام عالمی سطح کے ایک مشاعرے کا انعقاد
٭ اور اسی مناسبت سے ایک ضخیم اور دستاویزی حیثیت کی حامل کتاب کی اشاعت اور اجراء
٭ ہندوستان کے کسی ایک اہم شہر میںقومی سطح کے سیمینار کا انعقاد
٭ مشاعرہ کی مناسبت سے ایک یادگار مجلہ کا اجراء
٭ اور سال بھر میں بحرین اور اطراف کے شعراء کے لیے متعدد طرحی شعری نشستوں کا انعقاد
مجلس کی جانب سے اب تک شہریار، فراق گورکھپوری، عرفان صدیقی، آنند نرائن ملا اورخلیل الرحمن اعظمی کے نام سے مشاعرے منعقد ہوچکے ہیں اور ان کے فن اور شخصیت پر یادگار مجلے اور کتابیں زیورِ طبع سے آراستہ کراکر اردو والوں کی خدمت میں پیش کی جاچکی ہیں۔
ہم اپنی بساط بھر کوششوں کے ساتھ اردو کے فروغ میں مسلسل مصروفِ کار ہیں۔ ہماری کوششیں کس قدر بارآور اور اہم ہیں، ہم نے واقعی کوئی اہم کام کیا یا نہیں اس کا فیصلہ تو آنے والے وقت کرے گا لیکن مجلس کے بہی خواہان کی جانب سے ملنے والی محبتیں اور دعائیں ہمارے لیے زادِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور ہمیں ہمہ وقت بہتر سے بہتر کے لیے حوصلہ فراہم کرتی ہیں۔
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلاکے سرِ راہ رکھ دیا

قتیلؔ شفائی

0Shares