عالمی مشاعرہ بیادِ فراق گورکھپوری سنہ 2014ء

رپورٹ: طاہرعظیم
بحرین میں اردو شعرو ادب کے لیے سرگرمِ عمل مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اردو کے زیرِ اہتمام دوسرے عالمی مشاعرہ کا انعقاد31 جنوری 2014ءکو نیشنل میوزیم کمپلیکس ہال میں منعقد ہوا۔

بحرین کی مشہورومعروف سماجی، ادبی اور معاشی شخصیت شکیل احمد صبرحدی صاحب کی زیرِ سرپرستی منعقدہ اس خوبصورت شام کی صدارت کے لئے ہندوستان سے معروف نقاد ،محقق ،ماہرِ تعلیم ،ڈرامہ نگار و شاعر محترم پروفیسر شمیم حنفی تشریف لائے تھے۔  دیگر شعراءمیں پاکستان سے ڈاکٹر خورشید رضوی، سعود عثمانی، ہندوستان سے منصور عثمانی ،اظہر عنایتی،سعودی عرب سے سہیل ثاقب،خالد صدیقی،عبدالمجیب اور قطر سے عزیز نبیل نے شرکت کی۔ جبکہ مقامی شعراءکی نمائندگی کے لیے خورشید علیگ،رخسارناظم آبادی،احمد امیر پاشا،مقصود سروری اور طاہر عظیم کا انتخاب کیا گیاتھا۔

قطر سے تشریف لائے مہمان شاعر اور مجلس فخرِ بحرین کے مشیرِ خاص عزیزنبیل نےمشاعرہ کی ابتدائی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اپنے اِس شعر سے معزّز مہمانان، شعراءاور سامعین کا استقبال کیا

یہ رنگ و نور کی محفل،یہ شام آپ کے نام
محبتوں کے ہزاروں سلام آپ کے نام

مختصر گفتگو کے بعد انہوں نے تمام مہمان شعراءکو اسٹیج پر دعوت دی جبکہ اس موقع پرجناب سلیم احمد، ابوطلحہ اور سلمان صوفی نے گلدستوں سے شعراءکا استقبال کیا۔

بعد ازاں عزیزنبیل نے سرپرستِ اعلی مجلس فخرِ بحرین جناب شکیل احمد کی اردوزبان وادب اور قوم و ملّت کے لیے وسیع تر اور پرخلوص خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہیں کلماتِ تشکّر اور استقبالیہ بیش کرنے کے لیے اِس شعر کے ساتھ دعوت دی۔

جب ملو اس سے تروتازہ ہے پہلے کی طرح
عمر کچھ اس شخص کا اب تک تو کرپائی نہیں

شکیل احمد صبرحدی صاحب نے اپنی گفتگو کی ابتدا احمد ندیم قاسمی کا یہ شعر پڑھتے ہوئے کی

وقت کے پاﺅں کی زنجیر ہے رفتار،ندیم
ہم جو ٹھہرے تو افق دور نکل جائے گا

اور کہا کہ ”ابھی کل کی بات لگتی ہے کہ مجلسِ فخرِ بحرین کے زیر اہتمام پہلا عالمی مشاعرہ منعقد ہوا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ پورے ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔مشاعرہ بیادِ شہرےار ۳۱۰۲ کے کامیاب،یادگار اور تاریخ ساز انعقاد کے بعد آپ کی جانب سے ملنے والی بے پاےاں محبتوں اور نیک تمناﺅں نے ہماری ہمت کو مضبوطی بخشی اور ہمارے حوصلوں کو ہمالیائی استحکام عطا کیا ہے چنانچہ ہم ایک بار پھر بحرین کی سرزمیں پر ایک اور باوقار مشاعرہ کے ساتھ حاضر ہیں۔ فراقگورکھپوری کے نام مشاعرہ منعقد کرنے سے تعلّق سے انہوں نے بتایا کہ رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری نہ صرف ایک باکمال اور طرحدار شاعر تھے بلکہ اردو تہذیب و تمدّن اور ہندومسلم اتّحاد کی روشن علامت تھے۔ چنانچہ دوسرا عالمی مشاعرہ فراق کے نام کرتے ہوئے دراصل ہم سماجی ہم آہنگی ، اتّحاد ویگانگت ، حبّ الوطنی اور اردو کی عالمگیریت اور آفاقیت کا جشن منارہے ہیں“۔

اس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ مشاعرہ بیاد فراق کی مناسبت سے مجلسِ فخرِ بحرین کے مشیرِ خاص ،سالانہ مجلّہ دستاویز کے مدیرِ اعلی اور قطر میں مقیم نوجوان شاعر جنابِ عزیز نبیل نے800 صفحات پر مشتمل ایک کتاب”فراق گھورکھپوری ،شخصیت،شاعری اور شناخت“ کے نام سے مرتّب کی۔جس کے متعلّق دورانِ نظامت منصور عثمانی نے کہا تھاکہ اہلِ بحرین لائق ِ صد مبارکباد ہیں کہ فراق پر اتنا ضخیم اور اہم کام تو ہندوپاک میں بھی نہیںہوا۔ فراقگورکھپوری شخصیت شاعری اور شناخت کے ساتھ ہی مشاعرہ کی مناسبت سے شائع کردہ خوبصورت مجلہ کا رسم اجراءبدستِ سفیر ہند موہن کمار صاحب ،صدرِ مشاعرہ پروفیسر شمیم خنفی صاحب، ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب، شکیل احمد صبرحدی ، عزیزنبیل اور دیگر مہمانان کی موجودگی میں عمل میں آیا ۔

رسمِ اجراءکے بعد مہمانِ خصوصی سفیرِ ہند برائے بحرین محترم موہن کمار صاحب کو اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی،انہوں نے اس شام کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا اس شام کے مہمانِ خصوصی ہونے کو اپنی خوش نصیبی کہا اور اردو کے چند اشعار بھی سنائے۔

بعدازاں عزیز نبیل نے فراق صاحب کی فن اور شخصیت پر بات کرنے کے لئے مشاعرہ کے صدر، عصرِ حاضر میں اردو ادب کا ایک بہت اہم نام اور شاگردِ فراق محترم پروفیسر شمیم حنفی صاحب کو مندرجہ ذیل شعر کے ساتھ دعوت دی

صرف اک بار نظر بھر کے انھیں دیکھا تھا
زندگی بھر میری آنکھوں سے اجالا نہ گیا

شمیم حنفی صاحب نے اس شام کے انعقاد پر مجلس کا نہ صرف شکریہ ادا کیا بلکہ انھیں مبارک باد دی اور کہاکہ فراق گورکھپوری پر ایک اہم کتاب شائع کرکے مجلس نے ایک کارنامہ انجام دیا ہے۔ فراق کی شاعری پر گفتگو فرماتے ہوئے شمیم حنفی صاحب نے کہ اردو کے شاعر کے طور پر فراق کو بے مثال اور منفرد لب و لہجہ اور اسلوب کا شاعر قراردیا اور اردوشاعری کو ہندوستانی روایات و اقدار سے قریب تر کرنے والے شاعر کے طور پر یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ فراق کا جادو نہ صرف موضوعات میں بلکہ زبان اور اسلوب میں بھی دکھائی دیتا ہے۔اپنی خوبصورت، پرمغز اور سامعین کو پوری طرح اپنی گرفت میں کرنے لینے والی تقریر کے دوران انہوں نے فراق کے چند اشعار بھی سنائے

جن کی تعمیر عشق کرتا ہے
کون رہتا ہے ان مکانوں میں

تم مخاطب بھی ہو،قریب بھی ہو
تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں

اس دور میں زندگی بشر کی
بیمار کی رات ہو گئی ہے“

مشاعرہ شروع ہونے سے پہلے بدستِ سفیرِہند مشاعرہ کی شمع روشن کی گئی اور مشاعرے کا باقاعدہ آغاز کرنے کے لئے عزیزنبیل نے ناظمِ مشاعرہ محترم منصور عثمانی کواِس شعر کے ساتھ دعوتِ نظامت دی

تو بولتا ہے تو چلتی ہے نبضِ میخانہ
تو دیکھتا ہے تو کرتے ہیں رقص پیمانے

منصور عثمانی صاحب نے ان اشعار اور کلمات سے ابتداءکی

”مسافروں کو نظارے بھی لوٹ لیتے ہیں
اندھیری شب میں ستارے بھی لوٹ لیتے ہیں

فقط بھنور ہی نہیں لوٹتا سفینوں کو
کبھی کبھی تو کنارے بھی لوٹ لیتے ہیں

بحرین کے مشاعرے کی خاص بات یہ ہے کہ مشاعر لکھنؤ میں ہو تو صرف لکنھو میں ہوتا ہے،مشاعرہ دہلی میں ہو تو صرف دہلی میں ہی ہوتا ہے مشاعرہ حیدرآباد میں ہو تو صرف حیدرآباد میں ہوتا ہے لیکن مشاعرہ جب بحرین میں ہو تو مشاعرہ کراچی میں بھی ہوتا ہے،لاہور میں بھی ہوتا ہے،علی گڑھ اور اعظم گڑھ میں بھی ہوتا ہے“انہوں نے یہ شعر شکیل احمد صبرحدی کی نذر کیا

کسی کو ہو نہ سکا اس کے قد کا اندازہ
وہ آسمان ہے مگر سر جھکا کے چلتا ہے

اس مشاعرے کے پہلے شاعر کے طور پر طاہر عظیم نے اپنا کلام پیش کیا ۔ان کے دو منتخب اشعار پیش ہیں

دیکھتا ہوں کبھی جو باہر سے            خوف آتا ہے اپنے اندر ے

....

کچھ زیادہ برا سہی لیکن                  وقت یہ بھی گزرنے والا ہے

احمد امیر پاشا کا شمار بحرین کے سینئیر شعراءمیں ہوتا ہے ان کے بھی دو منتخب اشعارپیش ہیں

محبت کوریا کی قید سے آزاد کرنا ہے            ہمیں پھر آرزﺅں کا نگر آباد کرنا ہے

....

یہ کیا جبرِ تعلق ہے کہ پھر تیرے حوالے سے             کسی کویاد کرنا ہے،کسی کو بھول جانا ہے

خالدصدیقی صاحب سعودی عرب سے اس مشاعرے میں شریک ہوئے تھے،انہوں نے بھی اپنے کلام سے اہلِ بحرین کو نوازا

جگائیں قوم کو کس طرح خوابِ غفلت سے
کچھ اس کی فکر کچھ ایسے سوال کی باتیں

بحرین کے ہر دلعزیز شاعر جناب رخسار ناظم آبادی نے بہت خوبصورت اشعار سے سامعین کو نوازا اور داد حاصل کی

زندگی پر نثارہیں ہم لوگ                   ہر مصیبت گزار ہیں ہم لوگ
موت آکر ہمیں چھڑاتی ہے                  زندگی کے شکار ہیں ہم لوگ
صدیوں پہلے پڑے ہوئے تھے جہاں                 اس جگہ برقرار ہیں ہم لوگ

مقصود سروری صاحب بحرین میں نووارد ہیں لیکن بہت خوبصورت لب و لہجے کے شاعر ہیں انہوں نے کامیابی سے مشاعرہ پڑھا

زادگانِ صحرا کو نارسائی بہتر ہے                  حوصلہ میسر ہو تو جدائی بہتر ہے

....

چاندنی روک لی حویلی نے              میرے گھر کے نصیب سائے ہیں

پھر خورشید علیگ کو دعوتِ سخن دی..ان کا کا ایک قطعہ پیش ہے

اپنے وطن سے دور عرب کے جہان میں
الفت کے گیت گائیں گے اردو زبان میں

ہم وہ نہیں جو اوروں کی تہذیب اوڑھ لیں
تہذیب گونجتی ہے ہماری اذان میں

اب باری تھی مجلس کے مشیرِ خاص باکمال با ہنر خوبصورت لب و لہجے کے نوجوان شاعر قطر سے آئے ہوئے مہمان عزیز نبیل کی ،ان کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں

مرا طریقہ ذرا مختلف ہے سورج سے
جہاں میں ڈوبا وہیں سے ابھرنے والا ہوں

....

جانے کن راہوں سے اس شہر میں لایا گیا ہوں
ایسا لگتا ہے یہاں پہلے بھی آیا گیا ہوں

....

نبیل کھول دو اقلیمِ شاعری کے طلسم
بہت سی غزلیں اجازت کے انتظار میں ہیں

....

نبیل ریت میں سکے تلاش کرتے ہوئے
میں اپنی پوری جوانی گنوائے بیٹھا ہوں

سعودی عرب میں مقیم سہیل ثاقب،بہت ہی عمدہ شاعرہیں انہوںنے بہت اچھے اشعار سنائے اور داد وتحسین سے نوازے گئے

تیرے ماتھے پہ شکن سی جو ابھر جاتی ہے
میری قسمت میرے انجام سے ڈرجاتی ہے

اے صبا یہ تو بتا چھو کہ تو ان کا دامن
کونسی سمت میں کس شخص کے گھر جاتی ہے

اک مجھے چھوڑ کے ہر شخص فرشتہ ہے یہاں
بات کوئی بھی غلط ہو میرے سر جاتی ہے

....

کبھی دعا کبھی دستِ دعا سے ڈرتا ہوں

عجیب شخص ہون اس کی عطا سے ڈرتا ہوں

مزاحیہ کلام پیش کرنے کے لئے عبدالمجیب صاحب سعودی عرب سے تشریف لائے تھے انہوں نے پہلی بار ” بحرین‘ میں کلام سنایااور بہت پسند کیے گئے

وہ اک شعر جس پر ملی داد مجھ کو
غزل کا وہی شعر میرا نہیں تھا

منصور عثمانی صاحب ایک منفرد ناظم مشاعرہ ہیں اور بہت اچھے شاعر اور انسان ہیں وہ جب جب بحرین آئے انہوں نے ہمیشہ مزاحیہ کلام کے بعد کسی اور شاعر کو دعوت دینے کی بجائے اپنا کلام پیش کیا یہ ان کی نہ صرف اعلیٰ ظرفی ہے بلکہ ان کا اپنے کلام پر مکمل اعتماد ہے اور اس اعتماد میں مزید اضافہ اہلِ بحرین نے ان کے اشعار کو داد دے کر کیا

آنکھ منصف ہے دل عدالت ہے            کوئی جھوٹا بیان مت دینا

....

چہرہ شکستِ دل سے اترتا ہوا بھی دیکھ
خود کو قدم قدم پہ بکھرتا ہوا بھی دیکھ

....

نظریں بچا کے سب سے مجھے دیکھ تو لیا
اب خود کو میرے دل میں اترتا ہوا بھی دیکھ

مشاعرہ باوقار انداز میں آگے بڑھ رہا تھا اب باری تھی پاکستان سے آئے ہوئے بہت ہی عمدہ شاعر سعود عثمانی کی انہوں بہت اعلیٰ کلام پیش کیااورمشاعرے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ جی تو چاہتا ہے کہ ان کے تمام اشعار ہی لکھ دوں ۔۔۔مگر چند بہترین اشعار ملاحظہ کریں

ہرروز امتخاں سے گزارا تو میں گیا
تیرا تو کچھ نہیں گیا مارا تو میں گیا

جب تک میں تیرے پاس تھا بس تیرے پاس تھا
تونے مجھے زمیں پہ اتارا تو میں گیا

....

میں ڈھونڈنڈتا ہوا آیا ہوں زندگی اپنی
میں تم سے شوقِ ملاقات میں نہیں آیا

....

جو عکس تھے وہ مجھے چھوڑکر چلے گئے ہیں
جو آئنہ ہے مجھے چھوڑکر نہیں جاتا

جہاں خلوص میں گرہیں دکھائی دینے لگیں
میں اس کے بعد وہاں عمر بھر نہیں جاتا

ہندوستان سے آئے ہوئے بزرگ شاعر اظہر عنایتی نے تحت اللفظ اوبعد ازاںر ترنم سے اپنا کلام عنایت کیا،ان کے کلام سے مشاعرے کے معیار کو مزید تقویت ملی

اس راستے میں جب کوئی سایہ نہ پائے گا
یہ آخری درخت بہت یاد آئے گا

....

بڑی عجیب یہ مجبوریاں سماج کی ہیں
منافقوںسے تعلق نبھانا پڑتا ہے

....

ہوا اجالا تو ہم ان کے نام بھول گئے
جو بجھ گئے ہیں چراغوں کی لو بڑھاتے ہوئے

....

ہم نے روشن چراغ کر تو دیا
اب ہواﺅں کی زمہ داری ہے

پاکستان سے تشریف لائے مشہور شاعر اور اسکالرڈاکٹر خورشید رضوی کسی تعارف کے محتاج نہیں،انہیں بہت توجہ اور احترام سے سنا گیا ان کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے

رفتہ رفتہ ہوئے ہم خانہءخالی کی طرح
اب جو روگ آئے گا رہنے کے لئے آئے گا

دل میں ابھریں گے خیالات نہ کہنے کے لئے
آنکھ میں اشک نہ بہنے کے لئے آئے گا

....

تا چند بحرِ غم میں دلِ زار جائے گا
آخر جہاں تھمے گا وہیں ہار جائے گا

آخر کو ہنس پڑیں گے کسی ایک بات پر
رونا تمام عمر کا بے کار جائے گا

مشاعرہ بے انتہا کامیابی کے ساتھ صاحبِ صدر تک پہنچا ،انہوں نے مشاعرہ بیاد فراق کو ایک کامیاب اور معیاری مشاعرہ قرار دیتے ہوئے مجلس کو مبارکباد دی ۔پھر اپنا کلام سنایا ان کے کچھ اشعارپیش ِ خدمت ہیں

کیسے کیسے خواب دیکھے اور ہم زندہ رہے
عمربھر آنکھوں کی اس ذلّت پہ شرمندہ رہے

حال سے اپنا تعلق بس برائے نام تھا
یا تو ہم ماضی رہے یا حرفِ آئندہ رہے

....

بس ایک وہم ستاتا ہے باربار مجھے
دکھائی دیتا ہے پتھر کے آرپار مجھے

....

تو یہ ہوتا ہے ہم گھر سے نکلنا چھوڑ دیتے ہیں
کبھی اپنی گلی کے لوگ جب اچھے نہیں لگتے

یہ کہہ دینا کہ ان سے کچھ گلہ شکوہ نہیں ہم کو
مگر کچھ لوگ یوں ہی بے سبب اچھے نہیں لگتے

اور یوںپروفیسر شمیم حنفی صاحب کے کلامِ بلاغت نظام کے بعد اس تاریخ ساز عالمی مشاعرہ”بیادِ فراق“ کا اختتام ہوا،جس کے انعقاد میں جناب شکیل احمد صبرحدی صاحب کے ہمراہ جناب عزیز نبیل،خورشید علیگ،رخسارناظم آبادی،ابوطلحہ،سلمان صوفی ،محمد شمیر،طاہر عظیم اور دیگر نے اہم کردار ادا کیا۔

تصاویری جھلکیاں

previous arrow
next arrow
PlayPause
previous arrownext arrow
Slider

منتخب اشعار

پروفیسر شمیم حنفی
--*--

مقصود سروری
--*--
زادگانِ صحرا کو نارسائی بہتر ہے
حوصلہ میسر ہو تو جدائی بہتر ہے
--
چاندنی روک لی حویلی نے
میرے گھر کے نصیب سائے ہیں

رخسار ناظم آبادی
--*--
زندگی پر نثارہیں ہم لوگ ہر مصیبت گزار ہیں ہم لوگ
موت آکر ہمیں چھڑاتی ہے زندگی کے شکار ہیں ہم لوگ
صدیوں پہلے پڑے ہوئے تھے جہاں اس جگہ برقرار ہیں ہم لوگ

خالدصدیقی
--*--
جگائیں قوم کو کس طرح خوابِ غفلت سے
کچھ اس کی فکر کچھ ایسے سوال کی باتیں

احمد امیر پاشا
--*--
محبت کوریا کی قید سے آزاد کرنا ہے ہمیں پھر آرزﺅں کا نگر آباد کرنا ہے
....
یہ کیا جبرِ تعلق ہے کہ پھر تیرے حوالے سے کسی کویاد کرنا ہے،کسی کو بھول جانا ہے

طاہر عظیم
--*--
دیکھتا ہوں کبھی جو باہر سے
خوف آتا ہے اپنے اندر سے
....
کچھ زیادہ برا سہی لیکن
وقت یہ بھی گزرنے والا ہے

0Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں