عالمی مشاعرہ بیادِ پنڈت برج نرائن چکبست سنہ 2018ء

زندگی  کیا ہے  عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے اِن ہی اجزا کا پریشاں ہونا
چکبست 
 
خرم عباسی۔منامہ مملکت بحرین
 
مشاعروں کی تاریخ کے حوالے سے ڈاکٹر اسلم فرخی لکھتے ہیں کہ ،دلّی میں ایک شاعر تھے حضرت خواجہ میر دردؔ وہ نقش بندی سلسلے کے بڑے بزرگ تھے۔ اُن کے یہاں ہر مہینے مشاعرہ ہوتا تھا جسے زبانِ اردو کے پرانے نام ’’ریختہ‘‘ کی مناسب سے ’’مراختہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ خواجہ صاحب نے میر تقی میرؔ سے کہا یہ مراختہ تم اپنے یہاں کیا کرو۔ مطلب یہ تھا کہ مشاعرہ میرؔ کے یہاں ہوگا تو انہیں شاعروں میں اعتبار بھی حاصل ہوگا‘ لوگوں سے شناسائی بھی بڑھے گی اور ادبی حیثیت بھی مستحکم ہوگی۔ کیا دل نواز طریقے تھے چھوٹوں کی حوصلہ افزائی کے۔ پھر اسی دلّی کے ایک مشاعرے میں انشاؔ اور عظیمؔ کا وہ مشہور معرکہ ہوا جس نے اردو شاعری کو ایک ضرب المثل مصرع ’’وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے‘‘ عطا کیا۔ یہ مقابلے کا پہلو تھا۔ شعرا ایک ایک قافیے کے لیے جان لڑا دیتے تھے۔ ہر ہر پہلو سے غور کرتے تھے۔ کوئی قافیہ رہ نہ جائے۔ شعر میں کوئی عیب نہ ہو ۔ استاد اپنے شاگردوں کو ساتھ لیے مقابلے پر کمربستہ مشاعروں میں اپنے اپنے مقام پر بیٹھے پہلے اپنے شاگردوں اور دوسرے اساتذہ کے شاگردوں کا کلام دشمن کے کانوں سے سنتے اور جب شمع اساتذۂ فن کے سامنے آتی تو سب سنبھل کر بیٹھ جاتے ۔ مشاعرے ہی شاعر اور شاعری کے کھوٹے کھرے کی آزمائش ہوتے تھے۔
1857 کے بعد مشاعروں کی روایت دلّی اور لکھنؤ سے نکل کر رام پور‘ حیدرآباد‘ عظیم آباد اور لاہور میں پھولی پھلی۔ امیرؔ و داغؔ کی وجہ سے رام پور کے مشاعروں میں بڑا زور پیدا ہوگیا تھا۔ مشاعرے میں کسی شاعر کا شعر سن کر اُسے تخلیقی انداز سے اپنے رنگ میں ڈھال لینے کی روایت یہاں بہت کامیاب رہی۔انیسویں صدی کے آخر ہوتے ہوتے تک تعلیم کے فروغ‘ تہذیبی پاس داری‘ ذرائع آمدورفت کی سہولت اور لسانی قربت کی وجہ سے مشاعروں کی روایت برصغیر کے گوشے گوشے میں عام ہوگئی۔ نئے شعری اور ادبی مرکز وجود میں آئے اور مشاعرے کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ 
آج کے دور میں فاصلے گھٹ گئے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے زیادہ قریب آگئے ہیں۔ اردو زبان ملکوں ملکوں پھیل گئی ہے۔ اس پھیلاؤ میں مشاعرے بھی برابر کے شریک ہیں۔ بحرین، متحدہ عرب امارات‘ سعودی عرب‘ انگلستان‘کناڈا‘ امریکا‘ آسٹریلیا‘ جنوبی افریقا ہر ملک میں مشاعرے ہوتے ہیں‘ دھوم دھام سے ہوتے ہیں۔علوم کی فراوانی نے شاعری کو متاثر کیا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مستقبل قریب میں شاعری کا مطالعہ بہت کم ہو جائے گا اور یہ جزوِ زندگی نہیں رہے گی مگر مشرق کا مزاج شعری آہنگ کا مزاج ہے۔مشاعرہ برقرار رہے گا. مشاعرے کی علمی‘ ادبی‘ تہذیبی اور شعور کو جلا بخشنے والی خصوصیت برقرار رکھنے کے لیے‘ مجلسِ فخر بحرین برائے فروغِ اُردو نےایک باوقار  شناخت رکھنے والا "عالمی مشاعرہ بیادِ پنڈت برج نرائن چکبست 2018ء"گولڈن ٹیولپ ہوٹل المنامة میں منعقد کیا ،جس میں مقامی اور بیرون ملک سے آئے  شعرائے کرام نے کلام پیش کیا۔ عالمی مشاعرہ بیادِ پنڈت برج نرائن چکبست کی صدارت کی کرسی پرعربی ادب کا بڑا معتبر نام، ممتاز عالم دین، کہنہ مشق صاحبِ قلم، نکتہ سنج محقق اور باکمال شخصیت استاد محترم جناب شعیب نگرامی صاحب جلوہ افروز تھے ۔ نظامت کے فرائض آلوک شریواستو نے ادا کئے۔ نواسہ چکبست محترم کرنل راجکمارکک بطورمہمان خصوصی شریک ہوئے.
مشاعرے میں برصغيرسے شرکت کے لئے آئے شعرائے کرام میں انورؔ شعور، طاہرؔ فراز،پاپولر میرٹھیؔ ،راجیشؔ ریڈی،شاہدؔ ذکی،علیناؔ عترت، اقبال اشہرؔ،عبدالرحمن مومنؔ،آلوکؔ سریواستو سعودی عرب سے خالدؔ صبرحدی اور بحرین سےاحمدؔ امیر پاشا،اقبال طارقؔ،اسدؔ اقبال نے کلام پیش کیا۔
بحرین میں عالمی مشاعرے کے انعقاد میں مجلسِ کی شاندار روایت رہی ہے۔ شاعراور شاعری کے حوالے سے یہ مشاعرے تاریخی روایت کے لئے تقویت کا باعث ہیں۔ بھارت سے آنے والے مہمان شاعر اقبال اشہرؔ نے مشاعرے کی ابتدائی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے معزز مہمانان، شعرائے کرام اور سامعین کا استقبال کیا،بعد ازاں مشاعرے کی صدارت کے لئے استاد محترم جناب شعیب نگرامی صاحب کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا۔ مہمان خصوصی محترم راجکمارکک( نواسہ چکبست) کو تالیوں کی گونج میں اسٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔محترمہ رشی کک کا بھی پُرتپاک استقبال کیا گیا۔مختصر گفتگو کے بعد اقبال اشہرؔ نے مہمان شعراء کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی، معزز مہمانان کااستقبال کرتے ہوئے ابراہیم سعود نے پھول پیش کیے. مسلسل چھٹے سال عالمی مشاعروں کی انجمن آرائی اورمشاعروں کی روایت کو تقویت عطا کرنے والی ادب دوست، ادب فہم اور ادب نواز شخصیت، بانی مجلس محترم شکیل احمد صبرحدی کی اردوزبان وادب کے لئے پرخلوص خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہیں کلماتِ تشکّر اورخطبہ استقبالیہ پیش کرنے کے لئےدعوت دی.
 آپ نے خطبہ استقبالیہ میں فرمایا:
"اب سے چھ برس قبل ۲۰۱۲ء میں ہم نے مجلس کی بنیاد اس یقین اور اعتماد کے ساتھ رکھی کہ بحرین میں اردو کے لیے کچھ مختلف، الگ اور بہتر کام کیا جائے۔ چنانچہ ہم نے منصوبے بنائے، لائحہء عمل تیار کیا، منصوبوں کو نافذ کیا اور بنائے گئے خاکوں میں رنگ بھرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل بہتری کی سمت گامزن ہیں۔ اور ہمہ وقت اردو کے فروغ کے لیے اپنی کوششوں کا دائرہ وسیع تر اور بامقصد ترین بنانے میںکوشاں ہیں۔ 
مجلس اس بات پر مکمل یقین اور اعتماد رکھتی ہے کہ اردو کسی خاص مذہب یا فرقے کی زبان نہیں ہے۔ اس زبان کی نشونما اور فروغ میں ہر مذہب کے ماننے والوں کا اہم کردار رہا ہے۔ اور اب بھی ہے۔ چنانچہ ہماری سالانہ سرگرمیاں ایک سال کسی مسلم شاعر یا ادیب کے نام اور دوسرے سال کسی غیر مسلم شاعر یا ادیب کے نام ہوتی ہیں۔ مجلس اب تک شہریار، فراق گورکھپوری، عرفان صدیقی، آنند نرائن ملا اورخلیل الرحمن اعظمی کے نام سے مشاعرے منعقد کرچکی ہے اور اس مناسبت سےکتابوں کی اشاعت کا اہتمام کرچکی ہے۔ آج کا یہ مشاعرہ۔۔ بنام پنڈت برج نرائن چکبست اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ 
پنڈت برج نرائن چکبست لکھنوی، دبستانِ لکھنو سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے طرح دار، بے باک، اور تازہ رنگِ سخن کے شاعر کا نام ہے ،جس کی شاعری میں حب الوطنی کی چمک، آزادی وطن کی للک اور ملک وقوم کی اصلاح کی کسک بہت نمایاں اور اہم ہیں۔ وہ اپنی شاعری میں عظمتِ آدمیت، انسانی معاشرہ میں رواداری اور ہم آہنگی کی روایت، محبت ویگانگت اور ماضی کی عظیم اور مثبت اقدار سے نسبت کا پیغام عام کرتے ہیں۔ 
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی چکبست کے فن اور ان کی شخصیت پر ایک بہت اہم کتاب مجلس کی جانب سے شائع کی گئی ہے جس کی تحقیق وتدوین کا کام مجلس کے مشیرِ خاص عزیز نبیل نے انجام دیا ہے۔ عزیز نبیل کو آج یہاں مشاعرہ میں بحیثیت شاعر اور میزبان موجود ہونا تھا لیکن کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر تشریف نہیں لاسکے ہیں۔ 
2 جنوری 2018 کو اردو کے معروف ناظم اور شاعر محترم انور جلال پوری صاحب اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔ یہ خبر جہاں تمام اردو دنیا کے لیے ناگہانی اور افسردہ کردینے والی تھی وہیں مجلس کے لیے بطور خاص ان کے انتقال کی خبر کسی سانحے سے کم نہ تھی۔ مرحوم مجلس کے دیرینہ بہی خواہ اور گزشتہ تین مشاعروں کے ناظم تھے۔ ہم مجلس کی طرف سے اور بحرین کے تمام اردو والوں کی جانب سے انہیں یاد کرتے ہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ "
 
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم  نے  تو دل  جلا  کے  سر ِ راہ  رکھ  دیا
 
اس مشاعرے کی مناسبت سے محترم عزیز نبیل کی مرتّب کردہ کتاب’’پنڈت برج نرائن چکبست شخصیت اور فن ‘‘،مشاعرےکے لیے شائع کردہ خوبصورت مجلہ اور شاہدؔ ذکی کے شعری مجموعہ "دھنک دھوئیں سے اٹھی" کی رسم اجراء ادا کی گئی۔شاہدؔ ذکی نے اس شعری مجموعہ "دھنک دھوئیں سے اٹھی" کا انتساب شکیل احمد صبرحدی کے نام کیا ہے.جدید میڈیاکے نئے وسائل نے کلاسکل شاعری کے رنگوں کو اور بھی  دلکش بنا دیا ہے۔اس حوالے سے مجلس کی ویب سائٹ (www.majlisbahrain.org) کا افتتاح کیا گیا۔ اس ویب سائٹ پر مجلس کے تحت بین الاقوامی سطح پر ہونے والی علمی و ادبی،تعلیمی و ثقافتی اور انسانی رواداری کے سلسلے میں کی جانے والی کاوشوں کو شائع کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مجلس کا تعارف، سرگرمیاں،شعرا اور ادیبوں کے انٹرویوز بھی پیش کئے گئے ہیں۔ سرورق پر پیش کردہ اہم حصوں میں مجلس کی سرگرمیاں،آرٹیکلز، پریس ریلیز، ملٹی میڈیا، گوشہ کتب اور  اردو  لٹریچر شامل ہیں۔محترم سعید سعدی نے ویب سائٹ کی تفصیلی بریفنگ دی اور اس پر مہیا کردہ سہولتوں سے مہمانان گرامی کو آگاہ کیا۔مہمانان نے مجلس کو عالمی معیار کی اردو ویب سائٹ بنانے پر خصوصی مبارکباد دی۔ اس موقع پر صدرِ مشاعرہ،اور دیگر مہمانان بھی موجود تھے۔ رسمِ اجراء اور افتتاح کے بعد اقبال اشہرؔ نے چکبست کےشخصیت اورفن پر بات کرنے کے لئے مشاعرے کے مہمان خصوصی نواسہ چکبست محترم کرنل راجکمارکک،کو دعوت دی.آپ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس شام کے انعقاد پرخوشی کا اظہار کیا اور شکیل احمد صبرحدی کا شکریہ ادا کیا اور پنڈت برج نرائن چکبست لکھنوی کی زندگی اور ان کی ملک و قوم سے محبّت پر روشنی ڈالی۔ 
اس مرحلے پر شمع روشن کی گئی اور مشاعرے کے باقاعدہ آغاز کرنے کے لئے ناظمِ مشاعرہ آلوکؔ سریواستو کو دعوتِ نظامت دی گئی۔ آلوکؔ سریواستو نے خوبصورت کلمات سے ابتداء کی ،شعرائے کرام نے بہت خوبصورت اشعار سے سامعین کو نوازا اور داد حاصل کی ۔مقامی شعرائے کرام نےبہت اچھے اشعار سنائے اور داد وتحسین سے نوازے گئے۔ یہ تاریخ ساز ’’عالمی مشاعرہ بیادِ پنڈت برج نرائن چکبست‘‘ اپنی ایک اور گہری چھاپ چھوڑتے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچا۔انتظام، تہذیبی روایات، نظم و ضبط کے علاوہ باذوق سامعین کے لحاظ سے مجلس کا مشاعرہ واقعی مثالی تھا،پورے پنڈال اور اسٹیج کی تزئین و آرائش قابل دید تھی۔ اس مشاعرے کی عظیم الشان کامیابی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ شعراکرام نے نہایت ہی عمدہ،معیاری اور نفیس کلام پیش کیا اور با ذوق خواتین و حضرات کی ایک کثیر تعداد آخر تک توجہ اور دلچسپی سےشعرا کو سنتے رہے اور خوب داد و تحسین نچھاورکی ۔
 
 
http://esunday.jasarat.com/2018/03/18/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C-%D9%85%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%81-%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%AF%D9%90-%D9%BE%D9%86%DA%88%D8%AA-%D8%A8%D8%B1%D8%AC-%D9%86%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%86-%DA%86%DA%A9%D8%A8%D8%B3/

تصاویری جھلکیاں

previous arrow
next arrow
PlayPause
previous arrownext arrow
Slider

مشاعرے کی مکمل کاروائی ویڈیو

[huge_it_videogallery id="9"]

منتخب اشعار

 مشاعرے میں پیش کئے گئے کلام سے اقتباس نذرِ قارئین
 انورؔ شعور
تمہارا  رِند پیاسا، یاد  رکھنا
تمہاری میزبانی میں رہا ہے
 
طاہرؔ فراز
میری نظر میں ایسی زمینیں بھی ہیں فراز
جن کی طرف کوئی بھی سخنور نہیں گیا
 
پاپولر میرٹھیؔ 
پاپولرؔ میرا تخلص ہے یہی اعجاز ہے 
میرا جو بھی شعر ہے دنیا میں سرفراز ہے 
آپریشن خوب ہی مضمون کے کرتا ہوں میں 
  ذہن میرانوکِ نشتر کی طرح ممتاز ہے 
 
راجیشؔ ریڈی
یہ اور بات  ہے کہ جدا  ہے  مری  نماز 
  اللہ  جانتا  ہے  کہ  کافر  نہیں ہوں  میں
 
شاہدؔ ذکی
میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں
 دیکھنے   والے    اداکار    سمجھتے    ہیں    مجھے  
 
 علیناؔ عترت 
اضطرابی کیفیت ہی اس زمیں کا ہے نصیب
  ہر گھڑی گردش میں ہے ہر دم پریشانی میں ہے
 
 اقبال اشہر
یہ وہ صحرا ہے سجھائے نہ اگر تو رستہ 
خاک ہو جائے یہاں خاک اڑانے والا 
 
 آلوکؔ سریواستو 
یہ جسم کیا ہے کوئی پیرہن ادھار کا ہے
  یہیں سنبھال کے پہنا یہیں اتار چلے
 
 عبدالرحمن مومنؔ
دل تو یہ چاہتا تھا وہ بھی کہے
   میں ہی کہتا رہا کہ خوش ہوں میں
 
 احمدؔ امیر پاشا
ہم  اپنے دل کا یہ آباد شہر ہجرو وصال 
  خیال یار ترے جنگلوں پہ وارتے ہیں
 
 اقبال طارقؔ 
کچھ نہیں ہے سخنوری مولا 
جب تلک تو نہ آگہی بخشے 
 
 خالدؔ صبرحدی
دیا الفت کا تھا ہر دل میں روشن
  تھے سب کچے مکاں لیکن وہ گھر تھے
 
اسدؔ اقبال
آدمی کو سانپ نے ڈس کر کہا 
  آپ نے خود ہی تو پالا تھا مجھے 
1Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں