عالمی مشاعرہ بیادِ پروفیسرخلیلؔ الرحمن اعظمی سنہ 2017 ء

ہوائیں کتنی بھی برگشتہ کیوں نہ ہوں ہم جشنِ چراغاں ضرور مناتے ہیں، شکیل صبرحدی

خرم عباسی۔منامہ

یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ اردو شاعری نے مشاعرے کی روایت اور مشاعرے کی روایت نے اردو شاعری کو پروان چڑھایا۔ مشاعرے کی روایت ایک تہذیبی قوت، علمی موشگافیوں اور تخلیقی جودت کے بھرپور اظہار کی وجہ سے ڈھائی 300برس کی ہماری ثقافتی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔شروع شروع میں صرف دلی ہی اردو شاعری کا مرکز تھا۔ لکھنؤ تہذیب اور حکومت کے ایک مرکز کی حیثیت سے ابھرا تو شاعری اور مشاعرہ دونوں کی روایت نے وہاں بھی فروغ پایا۔ یہ روایت ادبی، علمی اور تہذیبی زندگی کا جزو بن گئی۔19ویں صدی کے آخرتک تعلیم کے فروغ، تہذیبی پاس داری، ذرائع آمدورفت کی سہولت اور لسانی قربت کی وجہ سے مشاعروں کی روایت برصغیر کے گوشے گوشے میں عام ہوگئی۔ نئے شعری اور ادبی مرکز وجود میں آئے اور مشاعرے کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔آج کے دور میں فاصلے گھٹ گئے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے زیادہ قریب آگئے ہیں۔ اردو زبان ملکوں ملکوں پھیل گئی ہے۔ اس پھیلاؤ میں مشاعرے بھی برابر کے شریک ہیں۔

متحدہ عرب امارات،بحرین ،قطر ، سعودی عرب، انگلستان، ناروے، سویڈن، کینیڈا، امریکہ، آسٹریلیااور جنوبی افریقہ سمیت مختلف ملکوں میں مشاعرے ہوتے ہیں اور دھوم دھام سے ہوتے ہیں۔ پاکستان اورہندوستان کے شعراء بھی ان میں شریک ہوتے ہیں جبکہ تارکینِ وطن شعرائے بھی موجودہوتے ہیں۔ مشاعرے سے دلچسپی رکھنے والے خواتین و حضرات جوق در جوق ان میں شرکت کرتے ہیں۔

آج ذرائع ابلاغ کی ترقی نے مشاعرے کو گھر گھر پہنچا دیاہے ۔ غالب نے اپنی مکتوب نگاری کے بارے میں فخریہ کہا تھا کہ ’’میں نے وہ طرزِ سخن ایجاد کیاہے کہ مراسلے کو مکالمہ بنا دیا ہے۔ ہزار کوس سے بزبانِ قلم باتیں کیا کرو۔ ہجر میں وصال کے مزے لیا کرو‘‘۔

اب شعر و سخن کے شیدائی ہزار کوس دور بیٹھے اپنے شاعروں کی نغمہ سرائی سنتے ہیں اور ریکارڈ شدہ مشاعرے دیکھتے ہیں۔ زبانی روایت فلم پر محفوظ ہو کر دائمی سرور کا وسیلہ بن چکی ہے۔

مجلسِ فخر بحرین برائے فروغِ اُردو اسی دائمی سرور اور محبت کے پیغام کو عام کرنے کی سعی کر رہی ہے۔ اس سلسلے کا پانچواں عظیم الشان عالمی مشاعرہ’’ بیادِ پروفیسرخلیل الرحمن اعظمی‘‘ منعقد ہوا۔ موصوف کا ایک شعر حاضر ہے
اسی امید پر زندہ ہے یہ شوق سخن گوئی
کہ آنے والی دنیا شاید ان شعروں کو دوہراے

مجلس کے مشاعروں کو ایک امتیاز حاصل ہے کہ یہ سکہ بند، پچ رنگی،خوش گلو اور روایتوں سے انحراف کرتے ہوئے مشاعروں سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔مجلس فخربحرین کے بانی و سربراہ اور بحرین میں کئی عالمی مشاعروں کی روایت کو تقویت عطا کرنے والی ادب دوست، ادب فہم اور ادب نواز شخصیت محترم شکیل احمد صبرحدی کی منفرد سوچ اور اردو سے بے لوث محبت نے ان محفلوں کو مشاعروں کی روایتوں کا پاسبان بنایا نیز تہذیبی اور علمی قوت سے مالامال کر دیا ہے۔ان کی رہنمائی و سرپرستی میں ، مجلس نے 2013ء میں شہریار کی یاد میں ایک عظیم الشان اور یادگار مشاعرہ منعقد کیا تھا۔

سن 2014ء میں تحقیقی کتاب فراق گھورکھپوری ،شخصیت،شاعری اور شناخت کا اجرا ء اورعالمی مشاعرہ بیاد فراق گورکھپوری منعقد کیا گیا۔ 2015ء میں عرفان صدیقی حیات،خدمات اور شعری کائنات کا اجرا ء اور تیسرا عالمی مشاعرہ عرفان صدیقی کی یادمیں منعقد کیا گیا۔ جسٹس آنند نرائن ملا کی علمی و دابی خدمات پر مجلس کی جانب سے جامعہ ہمدرد، دہلی کے کنونشن سینٹر میں ایک روزہ قومی سمینار منعقد کیاگیا۔ 2016ء میں نائب صدر جمہوریہ ہند ،جناب حامد انصاری کے ہاتھ سے ’’ آنند نرائن ملا حیات و کمالات" کا اجرا ء اور عالمی مشاعرہ بیاد پنڈت آنند نارائن ملا منعقد ہوا۔

گزشتہ سال علی گڑھ میں’’خلیل الرحمن اعظمی ،ایک بازیافت‘‘ کے عنوان پر ایک قومی سیمینار منعقد کیا گیا۔معروف ادیب و نقاد پروفیسر شمس الرحمن فاروقی ،معروف فکشن نگار سید محمد اشرف، پروفیسراشتیاق احمد ظلی،محترمہ راشدہ خلیل،ہما مرزااور ڈاکٹر سلمان خلیل اعظمی نے اس سیمینار میں شرکت کی۔ محترم شکیل احمد صبرحدی کی زیرِ سرپرستی شعرا میں مقابلے کی روح اور اصلاحِ ادب کا جذبہ پیدا کرنے اور مقابلے اور مسابقت کے جذبے کو فروغ دینے کی لئے طرحی مشاعرے منعقد کئے جاتے ہیں۔مجلس نے سال بھرخلیل الرحمن اعظمی کی یاد منائی۔ ان کے مصرعوں پر طرحی نشستوں کا انعقاد کیاگیا۔

قطر سے آنے والے مہمان شاعر اور مجلسِ فخرِ بحرین کے مشیرِ خاص عزیزنبیل نے مشاعرے کی ابتدائی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے معزز مہمانان، شعرائے کرام اور سامعین کا اس شعر سے استقبال کیا
پھر اک تجدید الفت کا ترانہ لے کے آیا ہوں
میں کیا آیا ہوں اک گزرا زمانہ لے کے آیا ہوں

بعد ازاں مشاعرے کی صدارت کے لئے ہندوستان سے معروف نقاد ،محقق ،ماہرِ تعلیم ،ڈرامہ نگار و شاعر محترم پروفیسر شمیم حنفی کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا۔ مہمان خصوصی محترمہ راشدہ خلیل کو تالیوں کی گونج میں اسٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔مہمانانِ اعزازی محترمہ ہما مرزا اور محترم سلمان خلیل اعظمی کا بھی پُرتپاک استقبال کیا گیا۔مختصر گفتگو کے بعد عزیزنبیل نے مہمان شعراء کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی۔بانی و سرپرستِ اعلیٰ مجلس فخرِ بحرین شکیل احمد صبرحدی کی اردوزبان وادب کے لئے پرخلوص خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہیں کلماتِ تشکّر اورخطبہ استقبالیہ پیش کرنے کے لئے اس شعر کے ساتھ دعوت دی
نگہ بلند ، سخن دلنواز ، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لئے

شکیل احمد صبرحدی نے اپنی گفتگو کی ابتداء خلیل الرحمن اعظمی کے اس شعر سے کی
ہم نے اتنے ہی سر راہ جلائے ہیں چراغ
جتنی برگشتہ زمانے کی ہوا ہم سے ہوئی

انہوں نے کہا کہ ’’ہوائیں کتنی بھی برگشتہ کیوں نہ ہوں اور اندھیرا جس قدر بھی تاریک ہو، ہم جو کہ اجالوں کی روایات کے امین ہیں، جشنِ چراغاں ضرور مناتے ہیں۔مجلس فخرِ بحرین برائے فروغِ اردوکی جانب سے منعقد ہونے والے مشاعرے دراصل روشنی کا جشن ہیں، وہ روشنی جو ہماری تابندہ روایات تک ہماری رسائی ممکن بناتی ہے۔وہ تابندہ روایات جن کی سانسوں میں ہماری پیاری زبان اردو رچی بسی ہے۔ ہم ایک بار پھر آپ کے روبرو ایک یادگار اور شاندارمشاعرے کے ساتھ حاضر ہیں ۔ مجلس کی جانب سے بحرین کی سرزمین پر اردو کا پانچواں جشن، پانچواں عالمی مشاعرہ بیاد خلیل الرحمن اعظمی‘‘۔

خلیل الرحمن اعظمی آسمانِ شعروادب کے ایک ایسے روشن اور تابندہ ستارے کا نام ہے جس کی روشنی سے جبین ِ اردو ہمیشہ جگمگاتی رہے گی۔ ان کی منفرد، بلند آہنگ اور اثر انگیز شاعری اور بصیرت افروز تنقیدی رویوں نے نہ صرف معاصر ادبی منظرنامے پر اپنے دور رس اثرات مرتب کئے بلکہ آنے والی نسلوں کی سوچ ، فکر اور طرز اظہار کو بھی نئی جہت عطا کی۔اردوزبان قومی یکجہتی اور مشترکہ تہذیبی روایت کا بے مثال نمونہ ہے۔ یہ زبان سرزمین ِ ہند کے تین اہم قوموں مسلمان، ہندوؤں اور سکھوں کے باہمی ربط ضبط ، میل جول اور اتحاد ویگانگت سے پیدا ہوئی۔ اس زبان کی شعوری، لسانی اور ادبی جڑیں ہندوستان کی قدیم تہذیبی زمینوں میں بہت دور تک پیوست ہیں چنانچہ اردو زبان کا ادبی مزاج اور کردار ہمیشہ سے ہی قومی یکجہتی کا امین، مشترکہ قومی تہذیب کا نقیب اور امن و آشتی پیام بررہا ہے جس کی ترجمانی ہر دور میں ہوتی رہی ہے۔ اختر شیرانی نے کیا خوب کہا تھاکہ
دنیا کی بولیوں سے مطلب نہیں ہمیں کچھ
اردو ہے دل ہمارا ، اردو ہے جاں ہماری

ہمیں فخر ہے کہ ہم جس زبان کے عاشق ہیں وہ زبان انسانیت ، محبت ، یگانگت اور احترامِ آدمیت کی زبان ہے۔اسی لئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اِس شیریں زبان کے فروغ کے لئے ہماری کوششیں دراصل انسانی قدروں اوررویوں کے فروغ کی سمت ایک قدم ہیں۔ انہوں نے محترم شمیم حنفی، ، محترمہ راشدہ خلیل، بیگم خلیل الرحمن اعظمی ، محترمہ ہما مرزا اور مہمانِ اعزازی محترم سلمان خلیل اعظمی نیز ہندوستان، پاکستان اور خلیجی ممالک سے آئے ہوئے معزز مہمانان اور شعرائے کرام کا خیر مقدم کیا۔انہوں نے بحرین کے تمام صاحبانِ ذوق اور اردو شاعری سے محبت کرنے والوں، تمام دوستوں، خیرخواہوں کا شکریہ ادا کیا اوراس خوبصورت شعر پرگفتگو تمام کی کہ
یہ حرف و صوت کا رشتہ ہے زندگی کی دلیل
خدا وہ دن نہ دکھائے کہ بے صدا ہوجائیں

اس مشاعرے کی مناسبت سے محترم آصف اعظمی کی مرتّب کردہ کتاب’’خلیل الرحمن اعظمی : ایک بازیافت‘‘ اور مشاعرے کی مناسبت سے شائع کردہ خوبصورت مجلے کی رسم اجراء ادا کی گئی ۔ اس موقع پر صدرِ مشاعرہ پروفیسر شمیم حنفی، محترمہ راشدہ خلیل، محترمہ ہما مرزا اور محترم سلمان خلیل اعظمی، ڈاکٹر خورشید رضوی ، شکیل احمد صبرحدی اور دیگر مہمانان بھی موجود تھے۔رسمِ اجراء کے بعد عزیز نبیل نے خلیل صاحب کے فن اور شخصیت پر بات کرنے کے لئے مشاعرے کے صدر، عصرِ حاضر میں اردو ادب کا ایک بہت اہم نام پروفیسر شمیم حنفی کو ان اشعار کے ساتھ دعوت دی
سوچ افلاک صفت ،چہرہ کتابوں جیسا
گفتگو روشنی، انداز ہے خوابوں جیسا
ان سے ملئے کہ یہی لوگ ہیں سرمایۂ وقت
ان سے ملنا بھی ہے اک کام، ثوابوں جیسا

شمیم حنفی نے اس شام کے انعقاد پر مجلس کا شکریہ ادا کیااور انہیں مبارک باد دی۔ انہوں نے کہاکہ خلیل الرحمن اعظمی پر ایک اہم کتاب شائع کرکے مجلس نے ایک کارنامہ انجام دیا ہے۔ خلیل الرحمن اعظمی کی شاعری کے حوالے سے انہوں نے اردو شاعر کے طور پر خلیل الرحمن اعظمی کو بے مثال اور منفرد لب و لہجے اور اسلوب کا شاعر قراردیا۔ اپنی خوبصورت، پرمغز اور سامعین کو پوری طرح اپنی گرفت میں لینے والی تقریر کے دوران انہوں نے خلیل الرحمن اعظمی کے چند اشعار بھی سنائے۔

مہمانِ خصوصی محترمہ راشدہ خلیل کو اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی توانہوںنے اس شام کے انعقاد پرخوشی کا اظہار کیا اور شکیل صبرحدی کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کی مہمانِ اعزازی محترمہ ہما مرزا نے خلیل اعظمی کی نظم پیش کی جسے سامعین نے بہت پسند کیا۔

اس مرحلے پر شمع روشن کی گئی اور مشاعرے کا باقاعدہ آغاز کرنے کے لئے ناظمِ مشاعرہ محترم انور جلالپوری کو قتیل کے اِس شعر کے ساتھ دعوتِ نظامت دی گئی
جو ہم نہ ہوں تو زمانے کی سانس رک جائے
قتیل وقت کے سینے میں ہم دھڑکتے ہیں

انور جلالپوری نے خوبصورت کلمات سے ابتداء کی ،پاکستان سے ڈاکٹر خورشید رضوی،تہذیب حافی،ہندوستان سے اظہر عنایتی، فرحت احساس،شکیل اعظمی،ابھیشیک شکلا،رشمی صبا ،سعودی عرب سے خالد صبرحدی،شیراز مہدی اور قطر سے عزیز نبیل نے بہت خوبصورت اشعار سے سامعین کو نوازا اور داد حاصل کی ۔ بحرین کی نمائندگی احمد عادل،طاہر عظیم،عدنان تنہا،فیضی اعظمی اور سعید سعدی نے کی۔ انہوں نے بہت اچھے اشعار سنائے اور وہ داد وتحسین سے نوازے گئے۔ مشاعرہ بے انتہا کامیابی کے ساتھ صاحبِ صدر تک پہنچا۔ انہوںنے عالمی مشاعرہ بیادِ پروفیسرخلیل الرحمن اعظمی کو ایک کامیاب اور معیاری مشاعرہ قرار دیتے ہوئے مجلس کو مبارکباد پیش کی اور یوں پروفیسر شمیم حنفی کے کلامِ کے بعد یہ تاریخ ساز ’’عالمی مشاعرہ بیادِ پروفیسرخلیل الرحمن اعظمی‘‘ اپنی ایک اور گہری چھاپ چھوڑتے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس مشاعرے کی عظیم الشان کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں شعرائے کرام نے نہایت ہی عمدہ،معیاری اور نفیس کلام پیش کیا اور با ذوق خواتین و حضرات کی ایک کثیر تعداد نے خوب داد و تحسین نچھاورکی ۔

تصاویری جھلکیاں

previous arrow
next arrow
PlayPause
previous arrownext arrow
Slider

منتخب اشعار

مشاعرے میں پیش کئے گئے شعرائے کرام کے کلام سے اقتباس نذرِ قارئین

شمیم حنفی
–*–
میں نے چاہا تھا کہ لفظوں میں چھپا لوں خود کو
خامشی لفظ کی دیوار گرا دیتی ہے
تمام عمر نئے لفظ کی تلاش رہی
کتاب درد کا مضموں تھا پائمال ایسا

خورشید رضوی
–*–
آخر کو ہنس پڑیں گے کسی ایک بات پر
رونا تمام عمر کا بے کار جائے گا
اب سے پہلے وہ مری ذات پہ طاری تو نہ تھا
دل میں رہتا تھا مگر خون میں جاری تو نہ تھا

انور جلال پوری
–*–
اب نام نہیں کام کا قائل ہے زمانہ
اب نام کسی شخص کا راون نہ ملے گا
چاہو تو مری آنکھوں کو آئینہ بنا لو
دیکھو تمہیں ایسا کوئی درپن نہ ملے گا

اظہر عنایتی
–*–
اس راستے میں جب کوئی سایا نہ پاے گا
یہ آخری درخت بہت یاد آے گا

فرحت احساس
–*–
انگلیاں بھی تو ہماری ہیں بہت اول جلول
اس کی زلفوں میں جو پڑتے ہیں خم الٹے سیدھے
آڑے ترچھے ہیں جو سجدے تو ہمارا کیا دوش
ہیں خدا بھی خدا کی قسم الٹے سیدھے

شکیل اعظمی
–*–
درد آرام بنا زخم کو سینا آیا
کتنی مشکل سے ہمیں چین سے جینا آیا
مدتوں ہم تری زلفوں میں گرفتار رہے
تب کہیں جا کہ محبت کا قرینا آیا

عزیز نبیل
–*–
جب جال سمیٹا ہے مچھیرے نے علی الصبح
ٹوٹا ہوا اک چاند بھی تالاب سے نکلا
عادتاً میں کسی احساس کے پیچھے لپکا
دفعتاً ایک غزل دشتِ سخن سے نکلی

تہذیب حافی
–*–
آسماں اور زمیں کی وسعت دیکھ
میں ادھر بھی ہوں اور ادھر بھی ہوں
بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتا
ہمارے گاوں میں برسات کیوں نہیں کرتا
کسے خبر ہے کہ عمربس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے
کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے کس خوشی میں لپٹ رہی ہے
مجھ ایسے پیڑوں کے سوکھنے اور سبز ہونے سے کیا کسی کو
یہ بیل شاید کسی مصیبت میں ہے جو مجھ سے لپٹ رہی ہے
تری قید سے میں یونہی رہا نہیں ہورہا
مری زندگی ترا حق ادا نہیں ہو رہا
مرا موسموں سے تو پھر گلہ ہی فضول ہے
تجھے چھو کے بھی میں اگر ہرا نہیں ہو رہا

ابھیشیک شکلا
–*–
حرف لفظوں کی طرف لفظ معانی کی طرف
لوٹ آئے سبھی کردار کہانی کی طرف
اس سے کہنا کہ دھواں دیکھنے لائق ہوگا
آگ پہنے ہوئے جائونگا میں پانی کی طرف

رشمی صبا
–*–
لفظ ہو پاے نہیں پھر بھی معانی میں ہوں میں
یعنی کردار نہیں اور کہانی میں ہوں میں

احمد عادل
–*–
ساغر مرگ کو سقراط نے پی کر یہ کہا
“زندگی تیرے لئے زہر پیا ہے میں نے ”
اپنے ہر خواب کی تعبیر کو پانے کے لیے
اک سمندر تھا جسے پار کیا ہے میں نے

خالد صبرحدی
–*–
پورا اترا ہے کب یقین پہ وہ
اس کو ہم نے گمان سے جانا
لطف ہوتا ہے کیا بلندی کا
یہ ترے آسمان سے جانا

شیراز مہدی
–*–
اپنی عزت یوں گنوانے کی ضرورت کیا تھی
اس طرح ناک کٹانے کی ضرورت کیا تھی
جتنا پٹنا تھا تجھے اس سے پٹا ہے زیادہ
باپ کا نام بتانے کی ضرورت کیا تھی
اب ترستے ہو کہ بچے ترے اردو بولیں
اتنی انگریزی پڑھانے کی ضرورت کیا تھی

طاہر عظیم
–*–
اپنی نظروں سے تجھے دیکھ نہیں سکتا میں
میری آنکھوں میں کسی اور کی بینائی ہے
خاک حیرت سے دیکھتی ہے مجھے
مجھ میں کیسے غرور آتا ہے

عدنان تنہا
–*–
تو مری آخری تمنا ہے
ورنہ رستہ کدھر نہیں جاتا
ہجر میں ہم نے جی کے دیکھا ہے
ہجر میں کوئی مر نہیں جاتا

فیضی اعظمی
–*–
رات اور دن کا فرق مٹا کر بیٹھا ہوں
کھڑکی میں مہتاب سجا کر بیٹھا ہوں
یاد اس کی پھر آئی شب تنہا میں
پھر آنکھوں سے نیند اڑا کر بیٹھا ہوں

سعید سعدی
–*–
ہر میداں میں زور لگانا پڑتا ہے
خود کو دنیا سے منوانا پڑتا ہے
ڈٹ جانا حالات کے آگے مت گھبرا
سچ کی خاطر سر کٹوانا پڑتا ہے

0Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں